EN हिंदी
زندگی کا نشان ہیں ہم لوگ | شیح شیری
zindagi ka nishan hain hum log

غزل

زندگی کا نشان ہیں ہم لوگ

مشتاق نقوی

;

زندگی کا نشان ہیں ہم لوگ
اے زمین آسمان ہیں ہم لوگ

روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں
کس قدر سخت جان ہیں ہم لوگ

زندگی مسکرا تو دے اک بار
ایک شب میہمان ہیں ہم لوگ

صورتیں دھول ہو چکی ہیں مگر
حسن کے پاسبان ہیں ہم لوگ

خود سے ملتے ہیں دشمنوں کی طرح
غیر پر مہربان ہیں ہم لوگ

اک یہی درد تو ملا ہے ہمیں
شعر و نغمہ کی جان ہیں ہم لوگ

شاخ گل میں جو ہم لچک جائیں
کھنچ گئے تو کمان ہیں ہم لوگ

ہم سے ملتا ہے منزلوں کا پتہ
اور خود بے نشان ہیں ہم لوگ

اب بھی لپٹے ہیں تیری ٹھوکر سے
زندگی تیری آن ہیں ہم لوگ