EN हिंदी
زندگی احسان ہی سے ماورا تھی میں نہ تھا | شیح شیری
zindagi ehsan hi se mawara thi main na tha

غزل

زندگی احسان ہی سے ماورا تھی میں نہ تھا

رؤف خیر

;

زندگی احسان ہی سے ماورا تھی میں نہ تھا
طاق پر رکھی ہوئی میری دوا تھی میں نہ تھا

میری ہستی آئینہ تھی یا شکست آئینہ
بات اتنی سی نہ سمجھے میرے ساتھی میں نہ تھا

تو ہی تو سب کچھ سہی نا چیز یہ اب کچھ سہی
وہ تو میری ابتدا بے انتہا تھی میں نہ تھا

دیکھتا رہتا ہوں منظر دیدنی نا دیدنی
ہاں مگر حیران چشم ماسوا تھی میں نہ تھا

تو مجھے دشمن سمجھتا ہے تو دشمن ہی سہی
تو بھی واقف ہے کوئی نادان ساتھی میں نہ تھا

میرے اندر کا درندہ کھا رہا تھا پیچ و تاب
اور پھر شائستگی زنجیر پا تھی میں نہ تھا

خیر اب تو چیونٹی بھی دوڑتی ہے کاٹنے
جھولتے تھے جب کہ دروازے پہ ہاتھی میں نہ تھا