ضد ہماری دعا سے ہوتی ہے
ہم سے کیا اب خدا سے ہوتی ہے
نامہ بر جائے گا ہوا سے تیز
شرط باد صبا سے ہوتی ہے
نہ جفا سے ہے میرے دل کو قرار
نہ تسلی وفا سے ہوتی ہے
سینے سے جب اڑاتی ہے آنچل
کھل کے باد صبا سے ہوتی ہے
نزع میں ان سے پھیر لیں آنکھیں
چار آنکھ اب قضا سے ہوتی ہے
سچ تو یہ ہے کہ رنج و غم سے نجات
بادۂ جانفزا سے ہوتی ہے
چارہ گر اب دعا کو ہاتھ اٹھائیں
کہ اذیت دوا سے ہوتی ہے
دونوں پس پس کے رنگ لاتے ہیں
چھیڑ دل سے حنا سے ہوتی ہے
اے جنوں نوک جھونک کا ہے مزا
خار سے نقش پا سے ہوتی ہے
بت الجھتے ہیں روز مجھ سے ریاضؔ
روز مجھ با خدا سے ہوتی ہے
غزل
ضد ہماری دعا سے ہوتی ہے
ریاضؔ خیرآبادی

