EN हिंदी
ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آ جائے | شیح شیری
zara si raat Dhal jae to shayad nind aa jae

غزل

ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آ جائے

فرح اقبال

;

ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آ جائے
ذرا سا دل بہل جائے تو شاید نیند آ جائے

ابھی تو کرب ہے بے چینیاں ہیں بے قراری ہے
طبیعت کچھ سنبھل جائے تو شاید نیند آ جائے

ہوا کے نرم جھونکوں نے جگایا تیری یادوں کو
ہوا کا رخ بدل جائے تو شاید نیند آ جائے

یہ طوفاں آنسوؤں کا جو امڈ آیا ہے پلکوں تک
کسی صورت یہ ٹل جائے تو شاید نیند آ جائے

یہ ہنستا مسکراتا قافلہ جو چاند تاروں کا
فرحؔ آگے نکل جائے تو شاید نیند آ جائے