EN हिंदी
ذرا سی دیر میں وہ جانے کیا سے کیا کر دے | شیح شیری
zara si der mein wo jaane kya se kya kar de

غزل

ذرا سی دیر میں وہ جانے کیا سے کیا کر دے

عزیز بانو داراب وفا

;

ذرا سی دیر میں وہ جانے کیا سے کیا کر دے
کسے چراغ بنا دے کسے ہوا کر دے

مرے مزاج کے کوفے پہ جس کا قبضہ ہے
خبر نہیں کہ وہ کب مجھ کو کربلا کر دے

یہ کون شخص ہے اس لفظ جیسا لگتا ہے
مرے وجود کے مطلب کو جو ادا کر دے