EN हिंदी
زخم سہے مزدوری کی | شیح شیری
zaKHm sahe mazduri ki

غزل

زخم سہے مزدوری کی

اسلم کولسری

;

زخم سہے مزدوری کی
سانس کہانی پوری کی

جذبے کی ہر کونپل کو
آگ لگی مجبوری کی

چپ آیا چپ لوٹ گیا
گویا بات ضروری کی

اس کا نام لبوں پر ہو
ساعت ہو منظوری کی

کتنے سورج بیت گئے
رت نہ گئی بے نوری کی

پاس ہی کون تھا اسلمؔ جو
کریں شکایت دوری کی