زہر ان کے ہیں مرے دیکھے ہوئے بھالے ہوئے
یہ تو سب اپنے ہیں زیر آستیں پالے ہوئے
ان کے بھی موسم ہیں ان کے بھی نکل آئیں گے ڈنک
بے ضرر سے اب جو بیٹھے ہیں سپر ڈالے ہوئے
چاک سی کر جو ہرے موسم میں اٹھلاتے پھرے
خشک سالی میں وہ تیرے چاہنے والے ہوئے
بڑھ کے جو منظر دکھاتے تھے کبھی سیلاب کا
گھٹ کے وہ دریا زمیں پر رینگتے نالے ہوئے
کیسے کیسے ناگہانی حادثے لکھے گئے
یاد کے پہلے ورق کس کس طرح کالے ہوئے
کچھ اداسی بن کے پھیلے اس کے رخساروں کے گرد
کچھ سیہ بادل کے ٹکڑے چاند کے ہالے ہوئے
پہلے رو لیتے تھے اب گلیوں کے پھیروں کا ہے شغل
پہلے جو آنسو تھے اب وہ پاؤں کے چھالے ہوئے
چھلکی ہر موج بدن سے حسن کی دریا دلی
بوالہوس کم ظرف دو چلو میں متوالے ہوئے
کھل گئے تو بوئے معنی ہر طرف اڑتی پھری
بند ہو کر لفظ باقرؔ نطق پر تالے ہوئے

غزل
زہر ان کے ہیں مرے دیکھے ہوئے بھالے ہوئے
سجاد باقر رضوی