EN हिंदी
ضبط ناوک غم سے بات بن تو سکتی ہے | شیح شیری
zabt-e-nawak-e-gham se baat ban to sakti hai

غزل

ضبط ناوک غم سے بات بن تو سکتی ہے

شاد عارفی

;

ضبط ناوک غم سے بات بن تو سکتی ہے
آدمی کی انگلی میں پھانس بھی کھٹکتی ہے

کیا کسی نوازش کی پول کھول دی میں نے
آنکھ جھینپتی کیوں ہے کیوں زباں بہکتی ہے

ہم قفس نصیبوں سے گلستاں کا کیا رشتہ
جس طرح کوئی ڈالی ٹوٹ کر لٹکتی ہے

ساتھیو تھکے ماندے ہارتے ہو ہمت کیوں
دور سے کوئی منزل دن میں کب چمکتی ہے

کام عزم و ہمت سے انصرام پاتے ہیں
کاہلی کی مت سنیے کاہلی تو بکتی ہے

جس کو نکہت و گل سے واسطہ نہیں ہوتا
خوش لباس پھولوں میں وہ نظر بہکتی ہے

شادؔ ان اندھیروں میں کہکشاں کی منزل سے
رات کے گزرنے کی صبح راہ تکتی ہے