زباں کو ذائقۂ شعر تر نہیں ملتا
بڑھا ہے زور زباں میں اثر نہیں ملتا
خود اپنے حال کی کوئی خبر نہیں ملتی
کوئی بھی جذبۂ دل معتبر نہیں ملتا
سبھی ہیں کھوئی ہوئی منزلوں کی گرد میں گم
سفر بہت ہے مآل سفر نہیں ملتا
جو دشت میں تھے وہ بیگانۂ خلائق تھے
جو شہر میں تھے انہیں اپنا گھر نہیں ملتا
عجیب طور ہیں اب کار گاہ دنیا کے
غرور عشق جواز ہنر نہیں ملتا
بیان شوق سفر اہل درد کا ہے بہت
مگر نشان سر رہ گزر نہیں ملتا
فراغ دل نہیں اب کوئے گل رخاں میں کہیں
کہ زخم کوئی یہاں کارگر نہیں ملتا
دیار شوق میں یا کوچۂ ملامت میں
کہیں بھی باقرؔ آشفتہ سر نہیں ملتا

غزل
زباں کو ذائقۂ شعر تر نہیں ملتا
سجاد باقر رضوی