یوں تو یوسف سے حسیں اور جواں تھے پہلے
آپ سے لوگ زمانے میں کہاں تھے پہلے
روز اول سے ہیں ہم سوختہ دل کشتۂ غم
آج جیسے ہیں یوں ہی شعلہ بجاں تھے پہلے
عشق نے کھول دیئے ہم پہ وہ اسرار حیات
جو زمانے کی نگاہوں سے نہاں تھے پہلے
آخر آنا ہی پڑا لوٹ کے تیری جانب
قافلے دل کے بہر سمت رواں تھے پہلے
ان بہاروں کو عجب رنگ میں پایا ہم نے
جن سے وابستہ حسیں وہم و گماں تھے پہلے
وہ سیہ بخت یہاں محو فغاں آج بھی ہیں
جو سیہ بخت یہاں محو فغاں تھے پہلے
مرحلے عشق کے آسان سمجھ بیٹھے تھے
منشاؔ ہم لوگ بھی کیا سادہ گماں تھے پہلے
غزل
یوں تو یوسف سے حسیں اور جواں تھے پہلے
محمد منشاء الرحمن خاں منشاء

