یوں تو بکھرے تھے مگر کچھ تو کہیں پر کچھ تھا
زیست کے رقص کا الزام ہمیں پر کچھ تھا
سانس بے ربط ہوئی آخرش آئینے میں
عکس کا باب اثر لوح جبیں پر کچھ تھا
سنگ انداز نگاہیں بھی شکستہ ٹھہریں
ضبط کا بار بھی تو دوش مکیں پر کچھ تھا
اب کے شاید یہ مری تشنہ لبی جنبش دے
تاب حسرت لب بے رنگ زمیں پر کچھ تھا
روشنی کاسہ بدست آئی ہے خیمے کی طرف
یعنی درویش کی دیوار یقیں پر کچھ تھا
صف بہ صف دنگ نگاہی تھے سراپا گردوں
چادر خاک نما عرش بریں پر کچھ تھا
جذبۂ طوق و سلاسل ہے سلامت عامرؔ
اس کا احساس حسیں تخت نشیں پر کچھ تھا
غزل
یوں تو بکھرے تھے مگر کچھ تو کہیں پر کچھ تھا
عامر نظر

