EN हिंदी
یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلے | شیح شیری
yun na Tapka tha lahu dida-e-tar se pahle

غزل

یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلے

جلیلؔ مانک پوری

;

یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلے
دیکھنا آگ لگی پھر اسی گھر سے پہلے

جیسے جیسے در دل دار قریب آتا ہے
دل یہ کہتا ہے کہ پہنچوں میں نظر سے پہلے

نامۂ یار پڑھوں میں ابھی جلدی کیا ہے
نامہ بر کو تو لگا لوں میں جگر سے پہلے

بے حجابی جو سہی ہے تری شوخ آنکھوں کی
رسم پردے کی اٹھے گی اسی گھر سے پہلے

اے جلیلؔ آپ بھی کس دھیان میں ہیں خیر تو ہے
خواہش قدر ہنر کسب ہنر سے پہلے