EN हिंदी
یوں مسلط تو دھواں جسم کے اندر تک ہے | شیح شیری
yun musallat to dhuan jism ke andar tak hai

غزل

یوں مسلط تو دھواں جسم کے اندر تک ہے

فرخ جعفری

;

یوں مسلط تو دھواں جسم کے اندر تک ہے
دسترس آنکھ کی لیکن کسی منظر تک ہے

مڑ کے دیکھوں تو تعاقب میں وہی سایہ ہو
بھول جاؤں مرے ہم راہ کوئی گھر تک ہے

میں کہ ویران جزیرہ ہوں بسا دے مجھ کو
اے کہ اقلیم تری سات سمندر تک ہے

اس کے آگے مجھے بے سمت و نشاں جانا تھا
میں نے سمجھا تھا سفر آخری پتھر تک ہے