یوں مجھ پہ جفا ہزار کیجو
پر غیر کو تو نہ پیار کیجو
کرتے ہو تم وفا کی باتیں
پر ہم سے ٹک آنکھیں چار کیجو
آجائیو یار گھر سے جلدی
مت کشتۂ انتظار کیجو
قصداً تو کہاں پہ بھولے ہی سے
ایدھر بھی کبھو گزار کیجو
کوئی بات ہے تجھ سے دل پھرے کا
اس کو تو مت اعتبار کیجو
بیدارؔ تو اس جہاں میں آ کر
جو چاہے سو میرے یار کیجو
پر جس سے گرے کسو کے دل سے
وہ کام نہ اختیار کیجو
غزل
یوں مجھ پہ جفا ہزار کیجو
میر محمدی بیدار

