EN हिंदी
یوں مجھ پہ جفا ہزار کیجو | شیح شیری
yun mujh pe jafa hazar kijo

غزل

یوں مجھ پہ جفا ہزار کیجو

میر محمدی بیدار

;

یوں مجھ پہ جفا ہزار کیجو
پر غیر کو تو نہ پیار کیجو

کرتے ہو تم وفا کی باتیں
پر ہم سے ٹک آنکھیں چار کیجو

آجائیو یار گھر سے جلدی
مت کشتۂ انتظار کیجو

قصداً تو کہاں پہ بھولے ہی سے
ایدھر بھی کبھو گزار کیجو

کوئی بات ہے تجھ سے دل پھرے کا
اس کو تو مت اعتبار کیجو

بیدارؔ تو اس جہاں میں آ کر
جو چاہے سو میرے یار کیجو

پر جس سے گرے کسو کے دل سے
وہ کام نہ اختیار کیجو