EN हिंदी
یہ وصل نہیں تو اور کیا ہے | شیح شیری
ye wasl nahin to aur kya hai

غزل

یہ وصل نہیں تو اور کیا ہے

عشرت آفریں

;

یہ وصل نہیں تو اور کیا ہے
آئینے سے عکس بولتا ہے

اب کس سے کیا کرو گے باتیں
آئینہ تو عکس کھو چکا ہے

یہ ہجر و وصال جس میں ہم ہیں
اے لذت درد انتہا ہے

اس قریۂ شب میں چاند میرے
غم بھی ترا روشنی فزا ہے

مت پوچھ اکیلے گھر کی وحشت
مٹی کا مکان گونجتا ہے