EN हिंदी
یہ ٹوٹی کشتیاں اور بحر غم کے تیز دھارے ہیں | شیح شیری
ye TuTi kashtiyan aur bahr-e-gham ke tez dhaare hain

غزل

یہ ٹوٹی کشتیاں اور بحر غم کے تیز دھارے ہیں

رام کرشن مضطر

;

یہ ٹوٹی کشتیاں اور بحر غم کے تیز دھارے ہیں
کناروں سے ہیں امیدیں نہ موجوں کے سہارے ہیں

نہیں معلوم کیا کیا رنگ بدلے گی ابھی دنیا
نگاہ وقت کے اے دل بہت نازک اشارے ہیں

مرے آنسو تو جذب خاک ہو کر رہ گئے کب کے
درخشاں ان کی پلکوں پر ابھی تک کچھ ستارے ہیں

ہماری اور تمہاری زندگی میں فرق ہی کیا ہے
وہی باتیں تمہاری ہیں وہی قصے ہمارے ہیں

عبارت ہے انہیں سے داستان زندگی مضطرؔ
کسی کی یاد میں جو زندگی کے دن گزارے ہیں