EN हिंदी
یہ شہر یہ خوابوں کا سمندر نہ بچے گا | شیح شیری
ye shahr ye KHwabon ka samundar na bachega

غزل

یہ شہر یہ خوابوں کا سمندر نہ بچے گا

اعزاز افصل

;

یہ شہر یہ خوابوں کا سمندر نہ بچے گا
جب آگ لگے گی تو کوئی گھر نہ بچے گا

یا نقش ابھارو کوئی یا عکس کو پوجو
شیشے کو بچاؤ گے تو پتھر نہ بچے گا

احساس رقابت سے جبینوں کو بچاؤ
ٹکرائیں گے سجدے تو کوئی در نہ بچے گا

اے نیند چھپے رہنے دے دو چار نظارے
جب آنکھ کھلے گی کوئی منظر نہ بچے گا

مقتل کی سیاست نہ ہماری نہ تمہاری
تفریق کرو گے تو کوئی سر نہ بچے گا