یہ سرد رات کوئی کس طرح گزارے گا
ہوا چلی تو لہو کو لہو پکارے گا
یہ سوچتے ہیں کہ اس بار ہم سے ملنے کو
وہ اپنے بال کس انداز میں سنوارے گا
شکایتیں ہی کرے گا کہ خود غرض نکلے
وہ دل میں کوئی بلٹ تو نہیں اتارے گا
یہی بہت ہے کہ وہ خود نکھرتا جاتا ہے
کسی خیال کا چہرہ تو کیا نکھارے گا
یہی بساط اگر ہے تو ایک روز فروغؔ
جو ہم سے جیت چکا ہے وہ ہم سے ہارے گا
غزل
یہ سرد رات کوئی کس طرح گزارے گا
رئیس فروغ

