EN हिंदी
یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا | شیح شیری
ye sab kahne ki baaten hain ki aisa ho nahin sakta

غزل

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا

حفیظ جونپوری

;

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا
محبت میں جو دل مل جائے پھر کیا ہو نہیں سکتا

شکایت ہو نہیں سکتی کہ شکوا ہو نہیں سکتا
ذرا سا چھیڑ دے کوئی تو پھر کیا ہو نہیں سکتا

برائی کا عوض ہرگز بھلائی ہو نہیں سکتی
برا کہہ کر کسی کو کوئی اچھا ہو نہیں سکتا

ہمارا ان کا قصہ لوگ سنتے ہیں تو کہتے ہیں
مزا ہے حشر تک یکسو یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا

کریں تیری شکایت کیا کہ تو اک دوست ہے اپنا
کسی دشمن کا بھی ہم سے تو شکوا ہو نہیں سکتا

الٰہی جذب دل کی اس کشش سے باز آیا میں
کوئی پردہ نشیں کہتا ہے پردہ ہو نہیں سکتا

حفیظؔ ان کی غزل ہے چوٹ کھا بیٹھی ہیں جو دل پر
بغیر اس کے سخن میں لطف پیدا ہو نہیں سکتا