یہ نیا ظلم نئی طرز جفا ہے کہ نہیں
وہ برا کہہ کے یہ کہتے ہیں سنا ہے کہ نہیں
جی میں آتا ہے کہ دیکھوں کبھی سر پھوڑ کے میں
وصل ان کا مری قسمت میں لکھا ہے کہ نہیں
ہم اسی فکر میں بے موت مرے جاتے ہیں
ان کے ہاتھوں سے ہماری بھی قضا ہے کہ نہیں
لو مرے ذکر محبت پہ یہ ارشاد ہوا
قیس و فرہاد کا انجام سنا ہے کہ نہیں
سن کے اشعار یہی نوحؔ سے وہ پوچھتے ہیں
تجھ میں کچھ اور صفت اس کے سوا ہے کہ نہیں
غزل
یہ نیا ظلم نئی طرز جفا ہے کہ نہیں
نوح ناروی

