EN हिंदी
یہ میں نہیں ہوں جو شاموں کو گھر میں آتا ہوں | شیح شیری
ye main nahin hun jo shamon ko ghar mein aata hun

غزل

یہ میں نہیں ہوں جو شاموں کو گھر میں آتا ہوں

منموہن تلخ

;

یہ میں نہیں ہوں جو شاموں کو گھر میں آتا ہوں
کہیں سے خود سا کوئی روز ڈھونڈھ لاتا ہوں

کھلا نہ جی پہ جو دکھ میں وہی بھلاتا ہوں
ذرا سی بات کو کتنے برس لگاتا ہوں

تمہاری آنکھ کا گم کردہ ربط بننے کو
یہ روز خود کو کہاں سے میں ڈھونڈ لاتا ہوں

میں اپنے ذہن میں تنہا رہا ہوں مثل خیال
میں اپنے جی کے ہی دکھ سو طرح مناتا ہوں

بہت دنوں سے نہیں مجھ پہ دن ڈھلا جیسے
میں تیرے راستوں پہ شام بننے آتا ہوں

یہ موج موج سی گہرائی بن کے چھو نہ مجھے
کہ میں وسیع کناروں کے دکھ اٹھاتا ہوں

وہ یاد ہے مری باتوں کی تو کہ اب بھی تجھے
میں دیکھ لوں تو بہت خود کو یاد آتا ہوں

میں انتشار ہی میں رہ سکا مکمل تلخؔ
وہ سلسلہ ہوں کہ جڑنے میں ٹوٹ جاتا ہوں