EN हिंदी
یہ کیا وسوسے ہم سفر ہو گئے ہیں | شیح شیری
ye kya waswase ham-safar ho gae hain

غزل

یہ کیا وسوسے ہم سفر ہو گئے ہیں

مشتاق نقوی

;

یہ کیا وسوسے ہم سفر ہو گئے ہیں
سبھی راستے پر خطر ہو گئے ہیں

پکارا نہیں تم کو غیرت نے ورنہ
کئی بار آکر ادھر ہو گئے ہیں

نہ سمجھو ہمیں کچھ شکایت نہیں ہے
کہ خاموش کچھ سوچ کر ہو گئے ہیں

کسے ہو خبر درد پنہاں کی اے دل
جنہیں تھی خبر بے خبر ہو گئے ہیں

ہم اپنی تباہی پہ بس مسکرائے
مگر دامن غیر تر ہو گئے ہیں

ترے بن ہمیں موت بھی تو نہ آئی
جدائی کے دن بھی بسر ہو گئے ہیں