EN हिंदी
یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوا | شیح شیری
ye kya kaha ki gham-e-ishq nagawar hua

غزل

یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوا

اصغر گونڈوی

;

یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوا
مجھے تو جرعۂ تلخ اور سازگار ہوا

سرشک شوق کا وہ ایک قطرۂ ناچیز
اچھالنا تھا کہ اک بحر بے کنار ہوا

ادائے عشق کی تصویر کھنچ گئی پوری
وفور جوش سے یوں حسن بے قرار ہوا

بہت لطیف اشارے تھے چشم ساقی کے
نہ میں ہوا کبھی بے خود نہ ہشیار ہوا

لیے پھری نگہ شوق سارے عالم میں
بہت ہی جلوۂ حسن آج بے قرار ہوا

جہاں بھی میری نگاہوں سے ہو چلا معدوم
ارے بڑا غضب اے چشم سحر کار ہوا

مری نگاہوں نے جھک جھک کے کر دئیے سجدے
جہاں جہاں سے تقاضائے حسن یار ہوا