EN हिंदी
یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرا | شیح شیری
ye kis qayamat ki bekasi hai zamin hi apna na yar mera

غزل

یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرا

فانی بدایونی

;

یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرا
نہ خاطر بے قرار میری نہ دیدۂ اشک بار میرا

نشان تربت عیاں نہیں ہے نہیں کہ باقی نشاں نہیں ہے
مزار میرا کہاں نہیں ہے کہیں نہیں ہے مزار میرا

وصال تیرا خیال تیرا جو ہو تو کیونکر نہ ہو تو کیونکر
نہ تجھ پہ کچھ اختیار دل کا، نہ دل پہ کچھ اختیار میرا

نگاہ دل دوز کی دہائی جمال جاں سوز کی دہائی
رہ محبت میں غم نے لوٹا شکیب و صبر و قرار میرا

میں درد فرقت سے جاں بلب ہوں تمہیں یقین وفا نہیں ہے
مجھے نہیں اعتبار اپنا تمہیں نہیں اعتبار میرا

قدم نکال اب تو گھر سے باہر جو دم بھی سینے سے سہل نکلے
دکھا نہ اب انتظار اپنا لحد کو ہے انتظار میرا

سنا ہے اٹھا ہے اک بگولہ جلو میں کچھ آندھیوں کو لے کر
طواف دشت جنوں کو شاید گیا ہے فانیؔ غبار میرا