EN हिंदी
یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی | شیح شیری
ye kis ne shaKH-e-gul la kar qarib-e-ashiyan rakh di

غزل

یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی

سیماب اکبرآبادی

;

یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی
کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

سنا تھا قصہ خواں کوئی نیا قصہ سنائے گا
ہمارے منہ پہ ظالم نے ہماری داستاں رکھ دی

خلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا
وہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی

اٹھایا میں نے شام ہجر لطف گفتگو کیا کیا
تصور نے تری تصویر کے منہ میں زباں رکھ دی