EN हिंदी
یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں | شیح شیری
ye jo meri lai aur lafzon ke rangin tane-bane hain

غزل

یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں

جمیل الدین عالی

;

یہ جو مری لے اور لفظوں کے رنگیں تانے بانے ہیں
سننے والوں غور نہ کرنا سارے راگ پرانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ورنہ کھل ہی جائیں گے
کتنے خالی بھید ہمارے جو کب سے افسانے ہیں

سننے والوں غور نہ کرنا ورنہ پتہ چل جائے گا
ہم نے جتنے باغ سجائے وہ اب تک ویرانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ورنہ صاف سمجھ لو گے
ہم نے جتنے نام لیے تھے آج بھی سب انجانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ورنہ خفا ہو جاؤ گے
جن کو ہم نے دوست کہا ہے ہم ان سے بیگانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ورنہ ہمیں ٹھکرا دو گے
ہم اندر سے سخت کمینے باہر سے دیوانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ہم بے سر ہو جائیں گے
جب تک تم سر دھنتے رہو گے سارے گیت سہانے ہیں

سننے والو غور نہ کرنا ورنہ ہم خود کہہ دیں گے
ہم اب شعر نہیں کہہ سکتے یہ سب شعر بہانے ہیں