EN हिंदी
یہ جو اظہار کرنا ہوتا ہے | شیح شیری
ye jo izhaar karna hota hai

غزل

یہ جو اظہار کرنا ہوتا ہے

شاہد ذکی

;

یہ جو اظہار کرنا ہوتا ہے
کار بے کار کرنا ہوتا ہے

قبر وہ ناؤ ہے کہ جس میں ہمیں
آسماں پار کرنا ہوتا ہے

خال و خد سے گریز کرنا بھی
لمس بیدار کرنا ہوتا ہے

عشق وہ کار یک بیک ہے جسے
مرحلہ وار کرنا ہوتا ہے

اپنے اندر خلا پری کے لیے
خود کو مسمار کرنا ہوتا ہے

ہم پس دار سیکھ آتے ہیں
جو سر دار کرنا ہوتا ہے

کتنا آساں ہے سوچنا شاہدؔ
کتنا دشوار کرنا ہوتا ہے