EN हिंदी
یہ جو اک لڑکی پہ ہیں تینات پہرے دار سو | شیح شیری
ye jo ek laDki pe hain tainat pahre-dar sau

غزل

یہ جو اک لڑکی پہ ہیں تینات پہرے دار سو

پرتاپ سوم ونشی

;

یہ جو اک لڑکی پہ ہیں تینات پہرے دار سو
دیکھتی ہیں اس کی آنکھیں بھیڑیے خوں خوار سو

دقتیں اکثر وہ میری بانٹتی ہے اس طرح
اپنے بکسے سے نکالے گی ابھی دو چار سو

آئیں گی جب مشکلیں تو وہ بچہ لے گا مجھے
اک بھروسہ دے گا اور کروائے گا بیگار سو

ریس میں ہوگی سڑک پر زندگی کی گاڑیاں
ایک اسی پر چلے گی ایک کی رفتار سو

کتنا مشکل کام ہے اچھائیوں کو ڈھونڈھنا
یوں تو خبروں سے بھرے ہیں روز ہی اخبار سو