EN हिंदी
یہ جو ہر سمت ترے نیزے کی شہرت ہے بہت | شیح شیری
ye jo har samt tere neze ki shohrat hai bahut

غزل

یہ جو ہر سمت ترے نیزے کی شہرت ہے بہت

رفیق راز

;

یہ جو ہر سمت ترے نیزے کی شہرت ہے بہت
سچ تو یہ ہے کہ مرے سر کی بدولت ہے بہت

چشمۂ چشم کے پانی سے نہیں ہوگا کچھ
خاک صحرا ہے اسے خوں کی ضرورت ہے بہت

میں تو اک آنکھ ہوں آواز سے مجھ کو نہ ڈرا
یہ ترے جلوۂ صد رنگ کی دہشت ہے بہت

بت معنی بھی معانی کے پجاری بھی گئے
آ کہ اب معبد الفاظ میں خلوت ہے بہت

خاک ہی شہر و بیاباں کی اگر دولت ہے
تو یہ آوارہ ترا صاحب ثروت ہے بہت