EN हिंदी
یہ جو چار دن کی تھی زندگی اسے تیرے نام نہ کر سکا | شیح شیری
ye jo chaar din ki thi zindagi ise tere nam na kar saka

غزل

یہ جو چار دن کی تھی زندگی اسے تیرے نام نہ کر سکا

رانا عامر لیاقت

;

یہ جو چار دن کی تھی زندگی اسے تیرے نام نہ کر سکا
مجھے رنج ہے ترے شہر میں یہ سفر تمام نہ کر سکا

ترے راستے میں رواں دواں، رہا تیرے گرد و غبار میں
تجھے ڈھونڈتے تجھے چھانتے میں کہیں قیام نہ کر سکا

میں اس آدمی سے تھا ہم کلام کہ جو چھا گیا مرے چار سو
اسے دل پہ لینا نہ دوستو، میں اگر سلام نہ کر سکا