EN हिंदी
یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے | شیح شیری
ye jo baDhti hui judai hai

غزل

یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے

جمیل الدین عالی

;

یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
شاید آغاز بے وفائی ہے

تو نہ بدنام ہو اسی خاطر
ساری دنیا سے آشنائی ہے

کس قدر کش مکش کے بعد کھلا
عشق ہی عشق سے رہائی ہے

شام غم میں تو چاند ہوں اس کا
میرے گھر کیا سمجھ کے آئی ہے

زخم دل بے حجاب ہو کے ابھر
کوئی تقریب رو نمائی ہے

اٹھتا جاتا ہے حوصلوں کا بھرم
اک سہارا شکستہ پائی ہے

جان عالیؔ نہیں پڑی آساں
موت رو رو کے مسکرائی ہے