یہ عشق کل تجھے حسن جواں ملے نہ ملے
نہ دیر کر کہ یہ جنس گراں ملے نہ ملے
بتوں سے مل کے بھی آرام جاں ملے نہ ملے
نظر ملے تو مزاج بتاں ملے نہ ملے
میں آج ہی اسے کیوں صرف دل نہ کر ڈالوں
یہ خوں کی بوند مجھے کل یہاں ملے نہ ملے
حدیث شوق پیمبر تلاش کر لے گی
زباں کی کون ضرورت زباں ملے نہ ملے
نگاہ شوق نے دیکھا ہے اک حسین افق
مری جبیں کو ترا آستاں ملے نہ ملے
گلے لگا کے کیا نذر شعلۂ آتش
قفس سے چھوٹ کے پھر آشیاں ملے نہ ملے
متاع شوق کو اشکوں کے ساتھ بھیج بھی دوں
پھر اس کے بعد کوئی کارواں ملے نہ ملے
چلو قبول بھی کر لو مرے سجود نیاز
اب ان کو اور کوئی آستاں ملے نہ ملے
حیات فانیٔ ملاؔ کی لذتوں کی قسم
بلا سے زندگیٔ جاوداں ملے نہ ملے
غزل
یہ عشق کل تجھے حسن جواں ملے نہ ملے
آنند نرائن ملا

