EN हिंदी
یہ عشق کل تجھے حسن جواں ملے نہ ملے | شیح شیری
ye ishq kal tujhe husn-e-jawan mile na mile

غزل

یہ عشق کل تجھے حسن جواں ملے نہ ملے

آنند نرائن ملا

;

یہ عشق کل تجھے حسن جواں ملے نہ ملے
نہ دیر کر کہ یہ جنس گراں ملے نہ ملے

بتوں سے مل کے بھی آرام جاں ملے نہ ملے
نظر ملے تو مزاج بتاں ملے نہ ملے

میں آج ہی اسے کیوں صرف دل نہ کر ڈالوں
یہ خوں کی بوند مجھے کل یہاں ملے نہ ملے

حدیث شوق پیمبر تلاش کر لے گی
زباں کی کون ضرورت زباں ملے نہ ملے

نگاہ شوق نے دیکھا ہے اک حسین افق
مری جبیں کو ترا آستاں ملے نہ ملے

گلے لگا کے کیا نذر شعلۂ آتش
قفس سے چھوٹ کے پھر آشیاں ملے نہ ملے

متاع شوق کو اشکوں کے ساتھ بھیج بھی دوں
پھر اس کے بعد کوئی کارواں ملے نہ ملے

چلو قبول بھی کر لو مرے سجود نیاز
اب ان کو اور کوئی آستاں ملے نہ ملے

حیات فانیٔ ملاؔ کی لذتوں کی قسم
بلا سے زندگیٔ جاوداں ملے نہ ملے