یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکے
کہ غنچے کھل تو سکے کھل کے مسکرا نہ سکے
مری تباہیٔ دل پر تو رحم کھا نہ سکے
جو روشنی میں رہے روشنی کو پا نہ سکے
نہ جانے آہ کہ ان آنسوؤں پہ کیا گزری
جو دل سے آنکھ تک آئے مژہ تک آ نہ سکے
رہ خلوص محبت کے حادثات جہاں
مجھے تو کیا مرے نقش قدم مٹا نہ سکے
کریں گے مر کے بقائے دوام کیا حاصل
جو زندہ رہ کے مقام حیات پا نہ سکے
نیا زمانہ بنانے چلے تھے دیوانے
نئی زمین نیا آسماں بنا نہ سکے
غزل
یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکے
جگر مراد آبادی

