EN हिंदी
یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا | شیح شیری
ye dil hi jalwa-gah hai us KHush-KHiram ka

غزل

یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

;

یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا
دیکھا تو صرف نام ہے بیت الحرام کا

معنی میں لفظ ایک ہے یہ رب و رام کا
حاصل یہ ہے کہ ہے وہی حاصل کلام کا

دیکھا تو سب حقیقت و معنی میں ایک ہیں
صورت میں گرچہ فرق ہے آپس میں نام کا

اس لا مکاں کا کوئی معین نہیں مکاں
گر ہے تو دل ٹھکانا ہے اس کے مقام کا

مسرور تیری مے سے اک عالم ہے ساقیا
امیدوار میں بھی ہوں دو ایک جام کا

آغاز عشق میں گیا دل ہاتھ سے مرے
انجام کیا ہو دیکھیے اب میرے کام کا

لیتے ہیں چور کرنے کو ہی سنگ دل حضور
کیا ہے وگرنہ شیشۂ دل ان کے کام کا