EN हिंदी
یہ دھوپ گری ہے جو مرے لان میں آ کر | شیح شیری
ye dhup giri hai jo mere lawn mein aa kar

غزل

یہ دھوپ گری ہے جو مرے لان میں آ کر

سوپنل تیواری

;

یہ دھوپ گری ہے جو مرے لان میں آ کر
لے جائے گی جلدی ہی اسے شام اٹھا کر

سینے میں چھپا شام کی آنکھوں سے بچا کر
اک لہر کو ہم لائے سمندر سے اٹھا کر

ہاں وقت سے پہلے ہی اڑا دے گی اسے صبح
رکھی نہ گئی چاند سے گر شب یہ دبا کر

اک صبح بھلی سی مرے نزدیک سے گزری
میں بیٹھا رہا ہجر کی اک رات بچھا کر

پھر صبح سے ہی آج الم دیکھ رہے ہیں
یادوں کی کوئی فلم مرے دل میں چلا کر

پھر چائے میں بسکٹ کی طرح بھوکی سی یہ شام
کھا جائے گی سورج کو سمندر میں ڈبا کر