EN हिंदी
یہ بت جو ہم نے دوبارہ بنا کے رکھا ہے | شیح شیری
ye but jo humne dobara bana ke rakkha hai

غزل

یہ بت جو ہم نے دوبارہ بنا کے رکھا ہے

منور رانا

;

یہ بت جو ہم نے دوبارہ بنا کے رکھا ہے
اسی نے ہم کو تماشا بنا کے رکھا ہے

وہ کس طرح ہمیں انعام سے نوازے گا
وہ جس نے ہاتھوں کو کاسہ بنا کے رکھا ہے

یہاں پہ کوئی بچانے تمہیں نہ آئے گا
سمندروں نے جزیرہ بنا کے رکھا ہے

تمام عمر کا حاصل ہے یہ ہنر میرا
کہ میں نے شیشے کو ہیرا بنا کے رکھا ہے

کسے کسے ابھی سجدہ گزار ہونا ہے
امیر شہر نے کھاتا بنا کے رکھا ہے

میں بچ گیا تو یقیناً یہ معجزہ ہوگا
سبھی نے مجھ کو نشانہ بنا کے رکھا ہے

کوئی بتا دے یہ سورج کو جا کے ہم نے بھی
شجر کو دھوپ میں چھاتا بنا کے رکھا ہے