EN हिंदी
یہی بہت ہے کہ احباب پوچھ لیتے ہیں | شیح شیری
yahi bahut hai ki ahbab puchh lete hain

غزل

یہی بہت ہے کہ احباب پوچھ لیتے ہیں

اطہر ناسک

;

یہی بہت ہے کہ احباب پوچھ لیتے ہیں
مرے اجڑنے کے اسباب پوچھ لیتے ہیں

میں پوچھ لیتا ہوں یاروں سے رت جگوں کا سبب
مگر وہ مجھ سے مرے خواب پوچھ لیتے ہیں

اسی گلی سے جہاں آفتاب ابھرا ہے
کہاں گیا ہے وہ مہتاب، پوچھ لیتے ہیں

اب آ گئے ہیں تو اس دشت کے فقیروں سے
رموز منبر و محراب پوچھ لیتے ہیں

کسی کو جا کے بتاتے ہیں حال دل ناسکؔ
کسی سے ہجر کے آداب پوچھ لیتے ہیں