EN हिंदी
یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے | شیح شیری
yahan kya hai wahan kya hai idhar kya hai udhar kya hai

غزل

یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے

مبارک عظیم آبادی

;

یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے
کوئی سمجھے تو کیا سمجھے وہ نیرنگ نظر کیا ہے

نہ ہو جس سر میں سودا سرفروشی کا وہ سر کیا ہے
نہ پھونکے خرمن ہستی تو وہ سوز جگر کیا ہے

ترے انداز کے بسمل ہیں ہم ہم سے کوئی پوچھے
تری بانکی ادا کیا ہے تری ترچھی نظر کیا ہے

جہاں سامان وحشت کے اسے وحشت سرا کہیے
جہاں اسباب ویرانی وہ ویرانہ ہے گھر کیا ہے

گئے وہ اور یہ کہتے گئے او جذب دل والے
مجھے بھی دیکھنا ہے جذبۂ دل کا اثر کیا ہے