EN हिंदी
یار اپنوں کی خرافات پہ غم کیا کرنا | شیح شیری
yar apnon ki KHurafat pe gham kya karna

غزل

یار اپنوں کی خرافات پہ غم کیا کرنا

جیوتی آزاد کھتری

;

یار اپنوں کی خرافات پہ غم کیا کرنا
دشمنوں کے بھی سوالات پہ غم کیا کرنا

رات دن اشکوں کی برسات پہ غم کیا کرنا
اپنے بگڑے ہوئے حالات پہ غم کیا کرنا

وقت کیسا بھی ہو دو پل میں گزر جائے گا
درد میں ڈوبی ہوئی رات پہ غم کیا کرنا

کام اس کا ہے ستانا وہ ستائے گا ہی
دشمن جاں کی خرافات پہ غم کیا کرنا

جانتی تھی کی بچھڑنا ہے ہمیں آخر جب
چند لمحوں کی ملاقات پہ غم کیا کرنا

بے وفائی سے تری خوب تھے واقف ہم تو
پھر ملی اشکوں کی سوغات پہ غم کیا کرنا