EN हिंदी
یاد کی بستی کا یوں تو ہر مکاں خالی ہوا | شیح شیری
yaad ki basti ka yun to har makan Khaali hua

غزل

یاد کی بستی کا یوں تو ہر مکاں خالی ہوا

شہرام سرمدی

;

یاد کی بستی کا یوں تو ہر مکاں خالی ہوا
بس گیا تھا جو خلا سا وہ کہاں خالی ہوا

رات بھر اک آگ سی جلتی رہی تھی آنکھ میں
اور پھر دن بھر مسلسل اک دھواں خالی ہوا

خودبخود اک دشت نے تشکیل پائی اور پھر
لمحہ بھر میں ایک شہر بیکراں خالی ہوا

آج جب اس لطف سایہ کی ضرورت تھی ہمیں
کم نصیبی یہ کہ دست مہرباں خالی ہوا

رفتہ رفتہ بھر گیا ہر سود سے اپنا بھی جی
رفتہ رفتہ دل سے احساس زیاں خالی ہوا

آج سے ہم بھی اکیلے ہو گئے اس بھیڑ میں
دھیان میں تھا جو بھرا سا آسماں خالی ہوا