EN हिंदी
یا صبر ہو ہمیں کو اس طرف جو نہ نکلیں | شیح شیری
ya sabr ho hamin ko us tarf jo na niklen

غزل

یا صبر ہو ہمیں کو اس طرف جو نہ نکلیں

میر حسن

;

یا صبر ہو ہمیں کو اس طرف جو نہ نکلیں
یا اپنے گھر سے بن بن یہ خوبرو نہ نکلیں

ہوتی نہیں تسلی دل کو ہمارے جب تک
دو چار بار اس کے کوچہ سے ہو نہ نکلیں

دل ڈھونڈھنے چلے ہیں کوچہ میں تیرے اپنا
ڈرتے ہیں آپ کو بھی ہم واں سے کھو نہ نکلیں

کوئی بھی دن نہ گزرا ایسا کہ اس گلی سے
زخمی ہو مبتلا ہو جو ایک دو نہ نکلیں

دل اور جگر لہو ہو آنکھوں تلک تو پہنچے
کیا حکم ہے اب آگے نکلیں کہو نہ نکلیں

بستی میں تو دل اپنا لگتا نہیں کہو پھر
صحرا کی طرف کیوں کر اے ناصحو نہ نکلیں

گر وہ نقاب اٹھا دے چہرے سے تو حسنؔ پھر
کچھ غم نہیں مہ و مہر عالم میں گو نہ نکلیں