یا دور مرا حجاب کر دے
یا اپنے کو بے نقاب کر دے
سو بار بسے یہ دل کی بستی
سو بار کوئی خراب کر دے
دیکھیں تری ہم پسند زاہد
اک حور تو انتخاب کر دے
ناداں کو دے دیا مبارکؔ
دل کو نہ کہیں خراب کر دے
غزل
یا دور مرا حجاب کر دے
مبارک عظیم آبادی
غزل
مبارک عظیم آبادی
یا دور مرا حجاب کر دے
یا اپنے کو بے نقاب کر دے
سو بار بسے یہ دل کی بستی
سو بار کوئی خراب کر دے
دیکھیں تری ہم پسند زاہد
اک حور تو انتخاب کر دے
ناداں کو دے دیا مبارکؔ
دل کو نہ کہیں خراب کر دے