EN हिंदी
وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیں | شیح شیری
wo wahan ghair ko mehman kiye baiThe hain

غزل

وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیں

عاشق اکبرآبادی

;

وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیں
ہم یہاں عیش کا سامان کئے بیٹھے ہیں

زہر کھا لیں گے شب وعدہ نہ آؤ گے اگر
اپنی مشکل کو ہم آسان کئے بیٹھے ہیں

کل شب وصل تھی سب عیش میسر تھے ہمیں
آج ہم چاک گریبان کئے بیٹھے ہیں

عشق پردے میں رہے کب تلک اے جوش جنوں
ہم بھی طوفان کا سامان کئے بیٹھے ہیں

ان کی زلفوں کا تصور بھی غضب ہے عاشقؔ
دل کو خود اپنے پریشان کئے بیٹھے ہیں