EN हिंदी
وہ سر سے پاؤں تلک چاہتوں میں ڈوبا تھا | شیح شیری
wo sar se panw talak chahaton mein Duba tha

غزل

وہ سر سے پاؤں تلک چاہتوں میں ڈوبا تھا

سلیمان خمار

;

وہ سر سے پاؤں تلک چاہتوں میں ڈوبا تھا
وہ شخص کیا تھا محبت کا استعارہ تھا

نہ چاند تھا نہ ستارہ نہ پھول تھا نہ دھنک
وہ پھر بھی حسن کی دنیا میں اک اضافہ تھا

مجھے پتہ ہی نہیں کب وہ لفظ کن بن کر
مرے وجود کے دیوار و در میں گونجا تھا

عجیب بات ہے دیکھا نہ تھا کسی نے اسے
عجیب بات ہے گھر گھر اسی کا چرچا تھا

کسی سے کوئی غرض تھی نہ کوئی آس اس کو
وہ ساری بھیڑ سے کٹ کر اکیلا رہتا تھا

سمندروں سے تھی گہرائی اس کی سوچوں میں
وہ اپنی ذات میں اک کائنات جیتا تھا

خمارؔ نام کے شاعر سے مل چکا ہوں میں
اداسیوں کے گھنے جنگلوں میں رہتا تھا