وہ سیر گل کے واسطے آ ہی نہیں رہا
سو اب وہ لطف آب و ہوا ہی نہیں رہا
شاید اکھڑ گیا تری یادوں سے رنگ لمس
ہاتھوں کو تیرے شوق حنا ہی نہیں رہا
کیوں کاٹتی نہیں ہے مرا درد موج مے
کیا اے شراب تجھ میں نشہ ہی نہیں رہا
لے کر تو آ گئے ہو شکایت کا تم جواب
پر اب تو تم سے کوئی گلہ ہی نہیں رہا
میں کتنی کتنی دیر مناتا رہا اسے
روٹھا ہوں آج تو وہ منا ہی نہیں رہا
کیا اس کو میں وفا کے تقاضے بتاؤں اب
جب وہ وفا کا عہد نبھا ہی نہیں رہا
کچھ روز سے اداس ہے دل اور بہت اداس
اور کیوں اداس ہے یہ بتا ہی نہیں رہا

غزل
وہ سیر گل کے واسطے آ ہی نہیں رہا
سید کاشف رضا