EN हिंदी
وہ رنگ اڑے ہیں کچھ اب کے برس بہاروں کے | شیح شیری
wo rang uDe hain kuchh ab ke baras bahaaron ke

غزل

وہ رنگ اڑے ہیں کچھ اب کے برس بہاروں کے

اسلم انصاری

;

وہ رنگ اڑے ہیں کچھ اب کے برس بہاروں کے
کہ دل میں نقش ابھرتے ہیں برف زاروں کے

یہ دشت دل یہ بہ ہر سو غبار تنہائی
کہاں گئے وہ چمن اجنبی اشاروں کے

الجھ گئے ہیں کسی موج اضطراب میں پھر
وہ خواب رنگ میں ڈوبے ہوئے کناروں کے

چلو کہ اس سے کوئی صاف صاف بات کریں
کہ اب تو کھل ہی گئے بھید استعاروں کے

نہ جانے آخر شب کس کے دل پہ چوٹ پڑی
کہ ڈوب ڈوب گئے جیسے دل ستاروں کے

فراق گل میں کٹی زندگی خزاؤں کی
سراغ گل میں لٹے قافلے بہاروں کے