EN हिंदी
وہ پوچھتے ہیں ہجر میں ہے اضطراب کیا | شیح شیری
wo puchhte hain hijr mein hai iztirab kya

غزل

وہ پوچھتے ہیں ہجر میں ہے اضطراب کیا

فانی بدایونی

;

وہ پوچھتے ہیں ہجر میں ہے اضطراب کیا
حیران ہوں کہ دوں انہیں اس کا جواب کیا

دل اور وہ بھی صرف مرا دردمند دل
تیری نگاہ نے یہ کیا انتخاب کیا

جاتی نہیں خلش الم روزگار کی
اے آسماں ہوا وہ ترا انقلاب کیا

نظارۂ جمال کی یاں تاب ہی نہیں
اے برق حسن چاہیئے تجھ کو نقاب کیا

وعدہ بھی کر لو وعدہ پہ یاں آ بھی جاؤ تم
یہ سب سہی تمہاری نہیں کا جواب کیا

بیش از گمان خواب نہیں فرصت حیات
فانیؔ تم اس خیال کو سمجھے ہو خواب کیا