وہ نگہ دل پہ پڑی داغ جگر کے ہوتے
دکھائی تلوار صدا افسوس سپر کے ہوتے
کعبہ و دیر کو اپنا تو یہیں سے ہے سلام
در بدر کون پھرے یار کے در کے ہوتے
تیری آنکھوں کے تصور میں ہے سیر کونین
ورنہ ہم لوگ ادھر کے نہ ادھر کے ہوتے
ہم کو معروفؔ اگر شیر سواری دیتا
تو بھی پابوس سگ یار اتر کے ہوتے
غزل
وہ نگہ دل پہ پڑی داغ جگر کے ہوتے
معروف دہلوی

