وہ مجھے سوز تمنا کی تپش سمجھا گیا
موم کا پیکر سمجھ کر دھوپ میں ٹھہرا گیا
اس کی بزم گل ہیں اپنے خانۂ ویراں کی سمت
میں مثال ابر آیا صورت صحرا گیا
تھا امیر شہر گر اپنی جگہ برحق تو پھر
آئینہ جب سامنے آیا تو کیوں گھبرا گیا
اب کوئی سفاک دنیا کے غموں کا غم نہیں
ہم کو تیرا غم سمجھنے کا سلیقہ آ گیا
کس سے دیکھا جائے گا اس کا جمال نو بہ نو
ایک جلوہ ہی نگاہ شوق کو پتھرا گیا
بازئ دل ہم نے یوں کھیلی بساط دہر پر
شہہ پہ شہہ پڑتی رہی ہر شہہ پہ اک مہرہ گیا
چڑھتے سورج کے پجاری کل کے سورج کو نہ بھول
وہ بھی سورج تھا یوں ہی نکلا چڑھا اترا گیا
اب نہ وہ مشتاق نظریں ہیں نہ وہ بیتاب دل
بے محابا آئے سانسوں کا وہ پہرا گیا
کچھ عجب تھا تیری بزم ناز میں اخگرؔ کا حال
آج اس کو دیر تک کچھ سوچتا دیکھا گیا
غزل
وہ مجھے سوز تمنا کی تپش سمجھا گیا
حنیف اخگر

