EN हिंदी
وہ میرا درد دل کیا جانتے ہیں | شیح شیری
wo mera dard-e-dil kya jaante hain

غزل

وہ میرا درد دل کیا جانتے ہیں

منور خان غافل

;

وہ میرا درد دل کیا جانتے ہیں
تڑپنے کو تماشا جانتے ہیں

بہار گل ہے خار آنکھوں میں تجھ بن
چمن کو ہم تو صحرا جانتے ہیں

کہیں کیا حال دل اپنا بتوں سے
جو ہے دل میں تمنا جانتے ہیں

ستانا قتل کرنا پھر جلانا
وہ بے تعلیم کیا کیا جانتے ہیں

ملیں ہم کیوں نہ آنکھیں برگ گل سے
اسے تیرا کف پا جانتے ہیں

رقیبوں پر ستم اتنا نہ کیجے
انہیں بھی آپ ہم سا جانتے ہیں

یہاں تک عجز کے خوگر ہیں غافلؔ
بروں کو بھی ہم اچھا جانتے ہیں